’اگر انڈیا نے پاکستان کے خلاف محدود جنگ کی پالیسی پر عملدرآمد کیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اگر انڈیا نے ایل او سی کو پار کرنے کی کوشش کی یا پاکستان کے خلاف ‘محدود جنگ’ کی پالیسی پر عملدرآمد کیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

خاقان عباسی

EPA

وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر پر سکیورٹی کونسل کی قرارداد پر عملدرآمد کے لیے کشمیر کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کرے۔

انھوں نے یہ مطالبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کیا۔

انھوں نے اقوام متحدہ سے خطاب میں کہا ‘عالمی برادری کو کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے حل کے لیے سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔’

’چھروں والی بندوق صرف کشمیر کے لیے مخصوص کی گئی‘

مسلمانوں کو انصاف کی امید چھوڑ دینی چاہیے!

انھوں نے کہا کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین سکیورٹی فورسز شاٹ گن پیلٹس استعمال کر رہی ہیں جس سے ہزاروں کشمیری افراد بشمول بچے اندھے ہو گئے ہیں۔’

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے ہمسائے انڈیا سے مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن ‘مذاکرات کے لیے انڈیا کو پاکستان میں شدت پسند کارروائیوں کی معاونت ترک کرنا ہو گی بشمول پاکستان کی مغربی سرحد سے۔’

وزیر اعظم پاکستان نے مطالبہ کیا کہ انڈیا کی جانب سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سرزد جرائم کی عالمی سطح پر تحقیقات ہونی چاہیئں۔

کشمیر

EPA

جنرل اسمبلی سے خطاب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ’اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر انکوائری کمیشن بھیجیں جو انڈیا کی جانب سے کی گئیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کریں، ان خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کو سزائیں دلوائے اور متاثرین کو انصاف دلوائے۔’

انھوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری انڈیا پر دباو ڈالے کہ نہتے افراد کے خلاف پیلٹ گن سمیت دیگر تشدد کرنے والے ہتھیاروں کے استعمال کو بند کیا جائے اور ریپ کی ریاستی پالیسی کو بند کیا جائے۔

لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ رواں سال انڈیا نے 600 بار سیز فائر کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

‘میں بتانا چاہتا ہوں کہ اگر انڈیا نے ایل او سی کو پار کرنے کی کوشش کی یا پاکستان کے خلاف ‘محدود جنگ’ کی پالیسی پر عملدرآمد کیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *